پاک فوج امریکی ڈھال کیوں؟ [باب نمبر: 3]

1993ء میں امریکی صومالیہ میں بری نیت سے گئے تھے۔اصل مقصد سوڈان کو تقسیم کرکے تیل سے مالا مال جنوبی سوڈان کو عیسائی باغیوں کے تسلط میں دینا تھا۔ اسرائیل کے تحفظ کے لئے بحیرہ احمر کے مغربی کنارے پر واقع اریٹیریا میں یہودی نواز حکومت کا قیام تھا لیکن بہانہ صومالیہ کے فاقہ زدہ بچوں کو بنایا گیا۔ بین الاقوامی میڈیا پر قحط سالی کے شور اور ٹی وی پر دن رات بھوک سے سوکھے ہوئے ڈھانچوں کی نمائش نے ایسا ماحول فراہم کیاکہ عالمی برادری بھی اس چکمے میں آگئی اور امریکہ آپریشن کو یو این او کی تائید حاصل تھی۔ قبائل کی جنگ میں 43 ہزار امریکہ اور 26 ہزار دیگر ممالک کے فوجی جھونک دئیے گئے لیکن جنرل فرح عدید کے ننگے پائوں اور ننگے بدن جنگجوئوں نے اسامہ بن لادن (جو اس وقت سوڈان میں مقیم تھے) کے ساتھیوں کی مدد سے ایسی مزاحمت دکھائی کہ دو سال بعد صومالیہ سے بھاگنے پر بن پڑی ۔ سب سے برا معرکہ موغا دیشو کے جنوب میں واقع جہاں اسامہ کے کمانڈر عاطف نے سٹنگر میزائل سے ایک
امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹر مار گرایا۔ جس میں 17 امریکی مارے گئے۔ مرنے والے امریکیوں کی لاشوں کو ننگ دھڑنگ صومالی بچے گلیوں میں گھسیٹتے رہے پھر یہ تمام مناظر دنیا کے ٹی وی چینلز پر دیکھائے گئے۔ صدر کلنٹن کا عزم صرف ان تصویری مناظر کے سامنے منہدم ہوگیا۔ صومالیہ کے تمام آپریشن میں تقریبا 29 امریکی اموات ہوئی ہوں گی۔ صومالیہ سے امریکیوں کا پسپا ہونا تھا کہ فاقوں کے قصے اور مدقوق اجسام کی ٹی وی پر نمائش بھی تمام ہوئی البتہ اریٹیریا پر صیہونی قدم جم چکے تھے اور اسامہ بن لادن کے ساتھ جنگ ابھی جاری ہے۔

اس داستان کا ایک پوشیدہ پہلو یہ بھی ہے کہ صومالیہ میں امریکی معاونت کے لئے پاکستان نے بھی پیدل فوج اور بکتر بند دستے فراہم کئے تھے۔ پاکستان سپاہیوں نے جہاں خوراک کی تقسیم میں قابل قدر خدمات سرانجام دیں وہاں امریکی فوج کو بھی کئی بار جنگجوئوں کے حملے سے بچایا۔ جس کے لئے امریکی سنٹرل کمان نے پاکستانی فوج کی بہت زیادہ تعریف کی اور ہمارے نوجوانوں کو دنیا کا بہترین سپاہی قرار دیا۔ لیکن جب ہالی وڈ نے امریکی فوج کے تعاون سے "بلیک ہاک ڈائوں" نامی مشہور فلم بنائی تو اس میں پاکستانیوں کا سرسری ذکر تو تھا مگر تحسین پر مبنی ایک جملہ بھی نہیں تھا۔ اس کام میں پاکستانی ملت کے 30 خوشنما پھول امریکیوں کو بچاتے ہوئے نثار ہوگئے۔ صرف ایک موقع پر آکر امریکیوں کو اگر پاکستان کی کمک نہ پہنچتی تو فوج مبصرین کے مطابق اس اس دن کم از کم ڈیڑھ سو امریکی فوجی مارے جاتے۔ میری مستند اطلاع کے مطابق صومالیہ میں امریکہ مخالف دھڑے مختلف ذرائع سے پاکستانی کمانڈروں اور خود جی ایچ کیو کو یہ پیغام بھجواتے رہے کہ "خدارا تم ہمارے مسلمان بھائی ہو امریکی درندوں کی ڈھال مت بنو اور ہمیں ان سے دو دو ہاتھ کرلینے دو"۔

آج پھر عراق میں تعاون کا حکم آگیا ہے ۔ آج پھر پاکستان کی فوج کی ڈھال کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ لیکن کوئی لاکھ احتجاج کرے فیصلہ وہی ہوگا جو جی ایچ کیو اور پینٹاگان کے درمیان طے ہوگا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ یہ ایک طویل اور دل سوز داستان ہے۔ جسے مستقبل پر اٹھا رکھتا ہوں ۔ پاکستان کا ہر دانشور کہہ اور لکھ چکا ہے کہ عراق میں فوج نہ بھیجی جائے۔ لبرل دانشور بھی اس رائے میں شریک ہیں۔ حالانکہ امریکہ کی پسپائی ان کے تصورات کے محل مسمار کر ڈالے گی۔ جیسا کہ افغانستان میں سے روس کے نکلنے کے بعد ترقی پسند دانشور وں کی امیدوں کا حشر ہوا۔ لیکن اپنے بہادر اور غیور فوجیوں کو "کرائے کے سپاہی" کہلوانا کسی کو گوارا نہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ عراق کے خلاف ایک تاریخی جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ افغانستان کے خلاف بھی ایسا ہی جرم ہوا۔ لیکن عملیت پسندوں کی بصارت اس وقت دبیز پردوں کو چاک نہ کرسکی ۔ اور طالبان بیچارے تو ویسے ہی زیر عتاب تھے۔ اگر صومالیہ کے بچے سازگار ماحول پیدا کررہے تھے تو افغانستان میں ٹینٹ برقعے میں ملفوف خواتین اور لمبی داڑھیوں نے واردات کا پس منظر تخلیق کیا۔ ہمارے ارباب بصیرت اس پوشیدہ حقیقت کو نہ دیکھ پائے ۔ فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ۔

افغانستان پر کیا بیتی ہے اور اس کی غیور عوام کا کیا مستقبل ہے ؟ آج کسی کو بھی اس سے غرض نہیں۔ طالبان پر سفاکانہ حملے کے وقت ہمارے اس وقت کے وزیر خارجہ جناب عبدالستار نے فرمایا تھا۔ ٹونی بلیئر نے ہمیں (حملے کے حق میں)تسلی بخش ثبوت فراہم کردئیے ہیں۔ لیکن حال میں میں نے ان کا ایک انٹرویو پڑھا جس میں انہوں نے تسلیم کیا کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ سوال یہ ہے کہ انہوں نے اس وقت قوم سے جھوٹ کیوں بولا اور کس کے کہنے پر بولا ؟ اس سے پہلے وہ سی ٹی بی ٹی کے حق میں دلائل کے انبار لگایا کرتے تھے اور اسے عین قومی مفاد میں بتاتے تھے، اب وہ قومی مفاد کہاں گیا؟ آج پھر یہ کہا جائے گا کہ عراق میں فوج بھیجنا قومی مفاد میں ہے۔ مگر کل جب نفع نقصان ہوگاتو کوئی ستم ظریف معصومیت سے مان لے گا کہ اس میں خسارہ ہی خسارہ تھا۔ مگر پچھتانے سے فائدہ نہیں ہوگا۔ آئیں ذرائع و نقصان کی کسوٹی پر اس معاملے کو آج ہی پرکھتے ہیں۔

ممکنہ نقصانات:

1۔ عراق پر امریکہ اور برطانیہ کا حملہ غاصبانہ اور بلاجواز ، غیر قانونی اور غیر اخلاقی تھا اور ہے ۔ دنیا کے کروڑوں انسانوں نے بروقت مخالفت کرکے اس کا کھلا اظہار کردیا۔ اس جرم میں کسی طرح کا عملی تعاون شراکت جرم کے مترادف ہوگا اور ہمارے لئے تاریخی شرمندگی کا باعث ہوگا۔ قائد اعظم کے اسلامی پاکستان کے لئے یہ کردار کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔

2۔ عراق میں تحریک  آزادی (جہاد) کا آغاز ہوچکا ہے۔ اس کا دائرہ وسیع ہوگا ۔ اس کی لپیٹ میں پورا خطہ آجائے گا۔ اس صورت میں وہاں موجود پاکستانی افواج کا اصل کام غاصبانہ قبضے کو مستحکم کرنا اور امریکہ کے لئے سلامتی کی ڈھال فراہم کرنا ہوگا۔

3۔ عراق میں امریکہ کے اہداف دو طرح کے تھے۔ تیل کی دولت پر قبضہ اور اسرائیل کی ناجائز ریاست کو تحفظ فراہم کرنا، گہرائی میں جھانکیں تو ہماری فوج اس مقصد سے تعاون کرکے ہمارے قبلہ اول پر صیہونی قبضے کو تقویت فراہم کرے گی۔ اور تحریک پاکستان کے تمام احساسات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صیہونیوں کے گریٹر اسرائیل کے خواب کو پروان چڑھا رہی ہوگی ۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہونی چاہئیے کہ گریٹراسرائیل کا جو نقشہ اسرائیلی پارلیمنٹ کے باہر لٹک رہا ہے اس میں مدینہ بھی صیہونی ریاست میں شامل ہے۔

4۔ عراق میں مزاحمتی تحریک عرب قوم پرست ، اسلامی احیائے نو اور اسلامی انقلاب ایران کے جذبوں کا امتزاج ہوگی اور افواج پاکستان کا ان جذبات سے تصادم کسی طور پر بھی موزوں نہ ہوگا۔

5۔ عراق میں شدید مزاحمت سامنے آئے یا امریکی قبضہ مستحکم ہو ہر دو صورتیں امریکی عقابوں کو ایران پر حملے کےلئے اکسائیں گی۔ مزاحمت کی صورت میں وہ دلیل دیں گے کہ ایران کو قابو کئے بغیر عراق میں سٹریٹیجک پوزیشن برقرار نہیں رہ ۔ اور اسرائیل کے لئے خطرات پیدا ہوں گے ۔ کامیابی کی صورت میں ایران کو بھی ساتھ لپیٹ دینے کا استدلال مضبوط ہوگا۔ ان حالات میں پاکستانی افواج بالواسطہ ایران کے خلاف شریک کار ہوں گی۔

6۔ عرب عوام میں امریکہ اور اپنے حکمرانوں کے خلاف جذبات روزافزوں ہیں۔ مشرق وسطی میں جس انقلاب کے آثار ہویدا ہیں ان میں حکمران غیر اہم ہوجائیں گے ۔ حکومتیں ناپائیدار ہوجائیں گی۔ پاکستان کو بالاخر عرب عوام سے ہی رابطہ کرنا ہوگا۔ عوامی سوچ کے خلاف پاکستان کا کردار ہمارے لئے مسائل پیدا کرے گا۔ یاد رہے کہ عرب عوام نے حسین شہید سہروردی کے صفر جمع صفر برابر صفر کو ابھی فراموش نہیں کیا۔

7۔ عرب قوم پرستی کے متضاد رویے پر مشرقِ وسطی میں 20 لاکھ پاکستانیوں کے کاروبار اور روزگار مجروح ہوں گے۔

8۔ پاکستانی فوج امریکی کمان کے ماتحت ہوگی۔ ہوسکتا ہے وہاں بھارتی فوج کے ساتھ مل کر بھی کام کرنا پڑے دونوں طرح ہماری فوج کی نفسیات پر مضر اثرات مرتب ہوں گے۔

9۔ اندرون ملک انتشار میں اضافہ ہوگا بالخصوص فوج کی قیادت اور ادارے سے اعتبار اٹھ جائے گا ۔ عوام اپنی فوج سے پوچھیں گے کہ ہمارے خون پسینے میں پلے ہوئے اور ہماری دعائوں سے شاداب ہونے والے آخر کرائے کے سپاہی کیوں بن گئے اور وہ بھی اسلام دشمنی کے لئے۔

10۔ عراق کی تحریک آزادی کے مراکز مساجد اور اسلاف کے مزار ہوں گے ان کے خلاف استعمال پاک فوج کے لئے بڑا امتحان ہوگا۔

ممکنہ حقیر فوائد:

1۔ امریکہ کچھ شخصیات سے خوش ہوجائے گا (پاکستان سے نہیں) اور ان کے جائز و ناجائز کام سے صرف نظر کرے گا لیکن وقتی طور پر مطلب نکلنے کے بعد ایسا ہی کرے گا جیسا ماضی میں کرتا آیا ہے۔

2۔ پاکستان کو مزید کچھ ڈالروں کی امداد مل جائے گی۔ جس سے معاشرے میں خوشحالی تو کیا آئے گی البتہ چند افراد مزید خوشحال ہوجائیں گے۔

3۔ پاکستان کے مٹھی بھر "بین الاقوامی شہریوں" کی نوکریاں مزید پکی ہوجائیں گی۔

نفع نقصان اس پیمانے پر جانچیں تو عقل دھنگ رہ جاتی ہے ۔ آخر ایسی کون سی آفت آن پڑی ہے کہ حقیر مفاد کے لئے ہم ایمان و ضمیر کے ساتھ جان و مال بھی قربان کردیں۔ عراق ہو یا افغانستان امریکیوں نے یہ مصیبت خود ہی گلے ڈالی ہے اس سے نمٹنا بھی ان ہی کی ذمہ داری ہے۔ ان کو اپنا بوجھ خود اٹھانا ہوگا، بے وفا سے وفا شعاری کسی اصول کی رو سے جائز نہیں۔ اگر عراق ویت نام بنتا ہے تو بنا کرے۔ اگر افغان قوم ایک سُپر پاور کا غرور خاک میں ملاتی ہے تو اس پر ہم کیوں تڑپیں۔ اگر "سب سے پہلے پاکستان" کو ہم نے حرز جان بنالیا تو کم از کم اس  اصول سے ہی وفا کریں۔ امریکہ کے سامنے سب اصول کیوں دم توڑ جاتے ہیں، اور حمیت و شجاعت دم توڑ جاتی ہے۔ اس سوال کا جواب ہماری قیادت کے ہر دعوے دار کو اپنے ضمیر میں جھانک کر دینا ہوگا قوم جواب مانگ رہی ہے۔

اور آخر میں عملیت پسندوں کے لئے ایک مشورہ ۔ غور کریں تو امریکہ ایک ڈھلتی ہوئی طاقت ہے اس کا سور ج غروب ہونے میں کتنا وقت لگے گا میں یہ نہیں کہہ سکتا لیکن عرصہ زیادہ طویل ہر گز نہیں ہوگا۔ اس لئے ہر جائز و ناجائز میں اس کا ساتھ دینا درست نہیں۔ قوموں کے لئے مختلف ادوار آیا کرتے ہیں ، مگر مشکلات انہیں ہرگز سرنگوں نہیں کرتیں بلکہ پورے قد سے کھڑے رہنے پر آمادہ کرتی ہیں ۔ انہیں اپنی بقا و آزادی کے لئے اصول پرستی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔ میرا خیال ہے ہم سب کے لئے سوچنے کی بات ہے ۔ سامنے کا سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ کا موجودہ غرور کے ساتھ دنیا پر پھیلتے جانا پاکستان، اسلام اور انسانیت کے لئے اتنا ضروری ہے کہ ہم اپنا قیمتی لہو اس پر نچھاور کردیں ۔۔۔۔ ؟ دوسری بات یہ کہ اگر امریکہ مستقبل قریب میں پسپائی اختیار کرکے اپنی تنہائی کی طرف واپس لوٹتا ہے تو اس سے پیدا شدہ خلاء کو کیسے پُر کیا جائے گا؟ اس صورت میں اسلام اور عالمِ اسلام کا کردار مرکزی ہوگا۔ لیکن تب تک ہم کہاں کھڑے ہوں گے ؟ امریکہ کے پرچم بردار بن کر اگر ہم ہارگئے تو جشنِ مسرت کون منائے گا ۔ اگر ہم جیت گئے تو فاتح کون کہلائے گا ؟

(روزنامہ جنگ 10 جولائی 2003)

1 comments:

sulaman kasana نے لکھا ہے کہ

i fully agree

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔